أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، وَنَحْنُ رَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مَا بَالُهُمْ رَافِعِينَ أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ.
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اور ہم نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کر رہے تھے ١ ؎ تو آپ نے فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، نماز میں سکون سے رہا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٦٧ (٩١٢) ، ١٨٩ (١٠٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٢١٢٨) ، مسند احمد ٥/٨٦، ٨٨، ٩٣، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جیسا کہ اگلی روایت میں فنسلم بأیدینا کے الفاظ آ رہے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1184