أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: دَخَلَ النَّبِيُّ (ﷺ) مَسْجِدَ قُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے، تو لوگ ان کے پاس سلام کرنے کے لیے آئے، میں نے صہیب ﷺ سے پوچھا (وہ آپ کے ساتھ تھے) کہ نبی اکرم ﷺ سے جب سلام کیا جاتا تھا تو آپ کیسے جواب دیتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٩ (١٠١٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٦٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1187