أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز عصر پڑھائی، تو دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، ذوالیدین کھڑے ہوئے، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ان دونوں میں سے) کوئی بات بھی نہیں ہوئی ہے ، ذوالیدین نے کہا : اللہ کے رسول ! ان دونوں میں سے کوئی ایک بات ضرور ہوئی ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور آپ نے ان سے پوچھا : کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، (سچ کہہ رہے ہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سے جو رہ گیا تھا، اسے پورا، کیا پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٣) ، موطا امام مالک/الصلاة ١٥ (٥٩) ، مسند احمد ٢/٤٤٧، ٤٥٩، ٥٣٢، (تحفة الأشراف : ١٤٩٤٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1226