أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَمْرٍو: أَنُقِصَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ،
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ہم کو) ظہر یا عصر پڑھائی، تو آپ نے دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، اور اٹھ کر جانے لگے، تو آپ سے ذوالشمالین بن عمرو نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے (لوگوں سے) پوچھا : ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : وہ سچ کہہ رہے ہیں، اللہ کے نبی ! تو آپ نے ان دو رکعتوں کو جو باقی رہ گئی تھیں لوگوں کے ساتھ پورا کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٨٥٩، ١٥٢٩٦) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1230