أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلَاتِي قَالَ: سَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا، وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا، وَكَبِّرِيهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلِيهِ حَاجَتَكِ يَقُلْ نَعَمْ نَعَمْ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جن کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا کیا کروں، تو آپ نے فرمایا : دس بار سبحان اللہ، دس بار الحمد لله، دس بار اللہ أكبر کہو، اس کے بعد تم اللہ سے اپنی حاجت مانگو، وہ ہاں، ہاں کہے گا ، (یعنی جو تم مانگو گی وہ تمہیں دے گا) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٣ (٤٨١) ، مسند احمد ٣/١٢٠، (تحفة الأشراف : ١٨٥) (حسن الإسناد ) قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1299