أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) الْفَجْرَ، فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ انْصَرَفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَلَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٥٢١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠ (١٢٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتیں امام کے سلام پھیرتے ہی اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں، تاکہ مردوں کی بھیڑ بھاڑ سے انہیں واسطہ نہ پڑے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1362