أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِفَأَرَاهُ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، وہ آپ ﷺ سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے، پھر فرمایا : اسی طرح وضو کرنا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٥١ (١٣٥) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٤٨ (٤٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٠٩) ، مسند احمد ٢/١٨٠ (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی سنت کی اتباع بہتر ہے، اور اپنی عقل سے اس میں کمی بیشی کرنا مذموم ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 140