أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَرْسَلَنِي فُلَانٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ نَحْوَ خُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ (استسقاء کی نماز کے لیے) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ١ ؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٨ (١١٦٥) ، سنن الترمذی/فیہ ٢٧٨ (الجمعة ٤٣) (٥٥٨، ٥٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٣ (١٢٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٥٩) ، مسند احمد ١/٢٣٠، ٢٦٩، ٣٥٥، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ١٥٠٩، ١٥٢٢ (حسن ) وضاحت : ١ ؎: بلکہ آپ کا خطبہ دعا و استغفار اور اللہ سے عاجزی اور گڑگڑانے پر مشتمل تھا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1506