أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قُلْتُلِلْمِقْدَادِ: إِذَا بَنَى الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ فَأَمْذَى وَلَمْ يُجَامِعْ، فَسَلِ النَّبِيَّ (ﷺ) عَنْ ذَلِكَ، فَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ وَابْنَتُهُ تَحْتِي، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے مقداد سے کہا : جب آدمی اپنی بیوی کے پاس جائے، اور مذی نکل آئے، اور جماع نہ کرے تو (اس پر کیا ہے ؟ ) تم اس کے متعلق نبی اکرم ﷺ سے پوچھو، میں آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور نماز کی طرح وضو کرلیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٨٣ (٢٠٨، ٢٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٤١) ، مسند احمد ١/١٢٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 153