أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ، قال: أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِالزُّهْرِيِّ، قال: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: كَبَّرَ النَّبِيُّ (ﷺ) وَصَفَّ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَرَكَعَ بِهِمُ النَّبِيُّ (ﷺ) رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَصَلَّى لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم بیان کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی، نبی اکرم ﷺ نے اللہ اکبر کہا، اور ہم میں سے ایک گروہ نے آپ کے پیچھے صف بنائی، اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک رکوع اور دو سجدے کرائے، پھر یہ لوگ پلٹے اور دشمن کے مقابلہ میں آگئے، اور دوسرا گروہ آیا تو اس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے (اس کے ساتھ بھی) اسی طرح کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر دونوں گروہوں میں سے ہر آدمی کھڑا ہوا، اور اس نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٤٤٨) (صحیح) (اس سند میں زہری اور ابن عمر کے درمیان انقطاع ہے، مگر پچھلی سند متصل ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1540