أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، تو ان دونوں کو ابوبکر (رض) نے ڈانٹا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انہیں چھوڑو (بجانے دو ) کیونکہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے (جس میں لوگ کھیلتے کودتے اور خوشی مناتے ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٦٦٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العیدین ٢ (٩٤٩) ، ٣ (٩٥٢) ، ٢٥ (٩٨٧) ، الجھاد ٨١ (٢٩٠٦) ، المناقب ١٥ (٣٥٢٩) ، مناقب الأنصار ٤٦ (٣٩٣١) ، صحیح مسلم/العیدین ٤ (٨٩٢) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢١ (١٨٩٨) ، مسند احمد ٦/٣٣، ٨٤، ٩٩، ١٢٧، ١٣٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1593