أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قال: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا.
عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے شکایت کی گئی کہ آدمی (بسا اوقات) نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہوگئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جب تک بو نہ پالے، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤ (١٣٧) و ٣٤ (١٧٧) مختصرًا، البیوع ٥ (٢٠٥٦) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٦ (٣٦١) ، سنن ابی داود/الطہارة ٦٨ (١٧٦) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٤ (٥١٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٦) ، مسند احمد ٤/٣٩، ٤٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جب ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہوجائے تب نماز توڑے اور جا کر وضو کرے، محض وہم پر نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 160