أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ (ﷺ) حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا.
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (نماز میں) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے، تو آپ سے عرض کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں (پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں) تو آپ نے فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ٦ (١١٣٠) ، تفسیر الفتح ٢ (٤٨٣٦) ، الرقاق ٢٠ (٦٤٧١) ، صحیح مسلم/المنافقین ١٨ (٢٨١٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٨٨ (٤١٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠٠ (١٤١٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٩٨) ، مسند احمد ٤/٢٥١، ٢٥٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1644