أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قال: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ.
عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، اس کے بعد کہ لوگوں نے آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو کمزور کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢١٤) ، مسند احمد ٦/١٧١، ٢١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1657