أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَكَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) بِاللَّيْلِ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ، قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ.
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے، جہری یا سری ؟ تو انہوں نے کہا : آپ ہر طرح سے پڑھتے، کبھی جہراً پڑھتے، اور کبھی سرّاً پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٢٨٦) وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٣ (٤٤٩) ، مسند احمد ٦/١٤٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1662