أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قال: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا : دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٨٤ (٤٧٣) ، الوتر ١ (٩٩٠، ٩٩١، ٩٩٣) ، التھجد ١٠ (١١٣٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٤ (١٣٢٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٧ (٤٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٩٩) ، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٣) ، مسند احمد ٢/٣٠، ١١٣، ١٤١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تاکہ سب وتر یعنی طاق ہوجائیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1667