أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ وَأَوْسَطِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شروع، اخیر اور بیچ رات سب میں وتر کی نماز پڑھی ہے، اور آخری عمر میں آپ کا وتر سحر (صبح) تک پہنچ گیا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : خ /الوتر ٢ (٩٩٦) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٨ (الوتر ٤) (٤٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢١ (١١٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٥٣) ، مسند احمد ٦/٤٦، ١٠٠، ١٠٧، ١٢٩، ٢٠٤، ٢٠٥، سنن الدارمی/الصلاة ٢١١ (١٦٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ آخری عمر میں وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھنے لگے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1681