أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: مَنْ قَرَأَ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ؟ قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَهُمْ خَالَجَنِيهَا.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی، تو ایک شخص نے سورة سبح اسم ربک الأعلى پڑھی، تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے پوچھا : سبح اسم ربک الأعلى کس نے پڑھی ہے ؟ تو ایک شخص نے عرض کیا : میں نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٩١٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ دونوں الگ الگ حدیثیں ہیں گو دونوں کی سند ایک ہے، اس طرح کی مخالفت ضرر رساں نہیں واللہ اعلم۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1744