أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قال: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ. وَحَدَّثَنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَاقَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ احتلام سے نہیں (بلکہ جماع سے) صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے، (محمد بن یوسف کہتے ہیں :) اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ (یہ بھی) بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو (گوشت کا ٹکڑا) پیش کیا، تو آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ١٨١٦٠) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصوم ١٣ (١١٠٩) ، مسند احمد ٦/٣٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 183