أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ، قَالَتْ: قُلْتُ: وِتْرًا، قَالَ: نَعَمْ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک بیٹی کی وفات ہوگئی، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا : تین بار، یا پانچ بار، یا سات بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو ، تو میں نے کہا : طاق بار ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو، (اور) جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے باخبر کرنا ، چناچہ جب ہم فارغ ہوئے، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا، اور فرمایا : اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٨١٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1889