أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ: أَلَيْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ، ثُمَّ جَلَسَ.
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک جنازہ حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، تو حسن (رض) کھڑے ہوگئے، اور ابن عباس (رض) نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن (رض) نے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ ایک یہودی کا جنازہ (دیکھ کر) کھڑے نہیں ہوئے تھے ؟ تو ابن عباس (رض) نے کہا : ہاں، پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٤٠٩) ، مسند احمد ١/٢٠٠، ٢٠١، ٣٣٧، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ١٩٢٦، ١٩٢٧، ١٩٢٨ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یعنی پھر اس کے بعد کسی جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1924