أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ، قال: أُتِيَ النَّبِيُّ (ﷺ) بِجَنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ: هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا : اللہ کے نبی ! اس کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے، آپ نے پوچھا : کیا اس نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، آپ نے پوچھا : کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، تو ابوقتادہ نامی ایک انصاری نے عرض کیا : آپ اس کی نماز (جنازہ) پڑھ دیجئیے، اس کا قرض میرے ذمہ ہے، تو آپ ﷺ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحوالة ٣ (٢٢٨٩) ، والکفالة ٣ (٢٢٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٤٧) ، مسند احمد ٤/٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1961