أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: تَقْرَأُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ.
طلحہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کے پیچھے ایک جنازے کی نماز پڑھی، تو میں نے انہیں سورة فاتحہ پڑھتے سنا، تو جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، اور پوچھا : آپ (نماز جنازہ میں) قرآن پڑھتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں، (یہی) حق اور سنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : وانظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1988