أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَتْ يَهُودِيَّةٌ عَلَيْهَا فَاسْتَوْهَبَتْهَا شَيْئًا، فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ، فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی (اور) اس نے ان سے کوئی چیز مانگی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دیا تو اس نے کہا : اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے ! عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو اس کی یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ٣٧ (٦٣٦٦) ، صحیح مسلم/المساجد ٢٤ (٥٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦١١) ، مسند احمد ٦/٤٤، ٢٠٥ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2066