أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) وَذَلِكَ عِنْدَ السُّحُورِ: يَا أَنَسُ ! إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ أَطْعِمْنِي شَيْئًا، فَأَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا أَنَسُ ! انْظُرْ رَجُلًا يَأْكُلْ مَعِي، فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَتَسَحَّرَ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سحری کے وقت فرمایا : اے انس ! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال (رض) کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : اے انس ! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ (سحری) کھائے ، تو میں نے زید بن ثابت (رض) کو بلایا، چناچہ وہ آئے (اور) کہنے لگے : میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں (بھی) روزہ رکھنا چاہتا ہوں ، (پھر) زید بن ثابت (رض) نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ اٹھے، اور (فجر کی) دو رکعت (سنت) پڑھی، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٣٤٨) ، مسند احمد ٣/١٩٧ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2167