أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ (ﷺ).
صلہ بن زفر کہتے ہیں : ہم عمار رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، تو انہوں نے کہا : آؤ تم لوگ بھی کھاؤ، تو لوگوں میں سے ایک شخص الگ ہٹ گیا، اور اس نے کہا : میں روزے سے ہوں، تو عمار (رض) نے کہا : جس نے شک والے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٦) (تعلیقاً ) ، سنن ابی داود/الصوم ١٠ (٢٣٣٤) ، سنن الترمذی/الصوم ٣ (٦٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣ (١٦٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٥٤) ، سنن الدارمی/الصوم ١ (١٧٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2188