أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ، فَسَأَلَ فَقَالُوا: رَجُلٌ أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ نے پوچھا : (کیا بات ہے ؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں ؟ ) تو لوگوں نے کہا : ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کردیا ہے، تو آپ نے فرمایا : سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٥٩٠) ، مسند احمد ٣/٣٥٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2257