أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) يَوْمَ الْفَتْحِ فَوَجَدَتْهُيَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمَتْ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ.
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے پاس گئیں، تو آپ ﷺ انہیں غسل کرتے ہوئے ملے، فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو ایک کپڑے سے آڑ کیے ہوئے تھیں، (ام ہانی کہتی ہیں) میں نے سلام کیا ١ ؎، تو آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : ام ہانی ہوں، تو جب آپ غسل سے فارغ ہوئے، تو کھڑے ہوئے اور ایک ہی کپڑے میں جسے آپ لپیٹے ہوئے تھے آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٢١ (٢٨٠) ، الصلاة ٤ (٣٥٧) مطولاً ، الجزیة ٩ (٣١٧١) مطولاً ، المغازي ٥٠ (٤٢٩٢) ، الأدب ٩٤ (٦١٥٨) ، صحیح مسلم/الحیض ١٦ (٣٣٦) ، المسافرین ١٣ (٣٣٦) ، سنن الترمذی/السیر ٢٦ (١٥٧٩) ، الاستئذان ٣٤ (٢٧٣٤) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٩ (٤٦٥) مختصرًا، (تحفة الأشراف : ١٨٠١٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٠١ (١٢٩٠) ، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٧) ، مسند احمد ٦/٣٤١، ٣٤٢، ٣٤٣، ٤٢٣، ٤٢٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے جو غسل کر رہا ہو اسے سلام کرنے کا جواز ثابت ہوا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 225