أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ (ﷺ) بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: أَدْنِيَا فَكُلَا، فَقَالَا: إِنَّا صَائِمَانِ، فَقَالَ: ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مرالظہران (مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے) میں کھانا لایا گیا، تو آپ نے ابوبکر و عمر (رض) سے فرمایا : تم دونوں قریب آ جاؤ اور کھاؤ، انہوں نے عرض کیا : ہم روزہ سے ہیں، تو آپ نے لوگوں سے کہا : اپنے دونوں ساتھیوں کے کجاوے کس دو ، اور اپنے دونوں ساتھیوں کے کام کر دو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : مسند احمد ٢/٣٣٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے سفر میں روزہ رکھنے کا جواز ثابت ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ روزہ دار کو سہولت پہنچائی جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2264