أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَلَا تَنْتَظِرُ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ.
عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا : اے امیہ ! تم کیوں نہیں دوپہر کے کھانے کا انتظار کرلیتے ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں۔ تو آپ نے فرمایا : (میرے قریب) آ جاؤ۔ میں مسافر کے سلسلے میں تمہیں (شریعت کا حکم) بتاتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے اس سے روزہ کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کردی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٠٧٠٢) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2268