أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ، قَالَ: هَلُمَّ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ، قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ، قَالَ: الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ.
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور میں روزے سے تھا، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا : آؤ (کھانے میں شریک ہوجاؤ) میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا : ادھر آؤ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ۔ میں نے کہا : اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے ؟ آپ نے فرمایا : روزے کی، اور آدھی نماز کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف : ٥٣٥٣ (صحیح) (سابقہ متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ھانی بن الشخیر “ لین الحدیث ہیں، نیز اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے ) وضاحت : ١ ؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2279