أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) وَهُوَ يَأْكُلُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ: هَلُمَّ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ؟، قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ؟ قَالَ: الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ.
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا : آؤ (کھانا کھالو) میں نے کہا : میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، میں نے کہا : کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، آپ ﷺ نے فرمایا : روزے اور آدھی نماز کی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٨١ (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ھانی “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2281