أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَامَ الْفَتْحِ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں فتح مکہ کے سال روزہ کی حالت میں نکلے۔ یہاں تک کہ جب کدید ١ ؎ میں پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٣٤ (١٩٤٤) ، الجہاد ١٠٦ (٢٩٥٣) ، المغازي ٤٨ (٤٢٧٥، ٤٢٧٦) ، صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٤٣) ، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢١) ، مسند احمد ١ (٢١٩، ٢٦٦، ٣١٥، ٣٣٤، ٣٤٨، ٣٦٦، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کَدِید یا قدید یہ دونوں مقامات عسفان کے پاس ہیں، اس لیے رواۃ کبھی عسفان کہتے ہیں اور کبھی قدید اور کبھی کَدِید، واقعہ ایک ہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2313