أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَجِيءُ وَيَقُولُ: هَلْ عِنْدَكُمْ غَدَاءٌ ؟، فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَأَتَانَا يَوْمًا وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، قَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ فَأَكَلَ، خَالَفَهُ قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے : کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ میں کہتی تھی : نہیں، تو آپ فرماتے تھے : میں روزہ سے ہوں ، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا، آپ نے کہا : کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ ہم نے کہا : جی ہاں ہے، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، آپ نے فرمایا : میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا ، پھر آپ نے (اسے) کھایا۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ١ ؎، (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٢٤ (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سند میں مخالفت اس طرح ہے کہ ابوبکر والی روایت میں طلحہ بن یحییٰ اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان مجاہد کا واسطہ ہے اور قاسم کی روایت میں عائشہ بنت طلحہ کا، نیز دونوں روایتوں کے متن کے الفاظ بھی مختلف ہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2324