أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ: أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمِينِيهِ ؟فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: إِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، فَقَالَ: مَا هِيَ ؟، قَالَتْ: حَيْسٌ، قَالَ: قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے (اس کے باوجود) پوچھتے تھے : تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو ؟ ہم کہتے نہیں۔ تو آپ ﷺ فرماتے : میں نے روزہ رکھ لیا پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا : ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا : کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : حیس ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا پھر آپ نے کھایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٢٧ (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2326