أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) أَتَاهَا، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ؟، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّا قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَدَعَا بِهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، پوچھا : کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو میں روزہ سے ہوں ، پھر آپ ایک اور دن تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، تو آپ نے اسے منگوایا، اور فرمایا : میں نے صبح روزہ کی نیت کی تھی ، پھر آپ نے کھایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٢٤ (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2328