أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيرَجُلٌ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ طَعَامٍ ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِذًا أَصُومُ، قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَيَّ مَرَّةً أُخْرَى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: إِذًا أُفْطِرُ الْيَوْمَ، وَقَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اور پوچھا : کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں، آپ نے فرمایا : پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں ، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کرلی تھی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٧٨٨٤) (صحیح) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2330