أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِثَلَاثٍ: بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا ہے : وتر پڑھ کر سونے کا، جمعہ کے دن غسل کرنے کا ١ ؎، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧١ (منکر) (جمعہ کے غسل کا تذکرہ منکر ہے، صحیح ” چاشت کی صلاة “ ہے ) وضاحت : ١ ؎: یہی ٹکڑا منکر ہے، صحیح صلاۃ الضحیٰ چاشت کی نماز ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : منکر بذکر الغسل والمحفوظ صلاة الضحى صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2405