أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ أَبِي: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَمَعَهُ أَرْنَبٌ قَدْ شَوَاهَا وَخُبْزٌ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ (ﷺ)، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي وَجَدْتُهَا تَدْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) لِأَصْحَابِهِ: لَا يَضُرُّ، كُلُوا، وَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: كُلْ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: صَوْمُ مَاذَا، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ صَائِمًا، فَعَلَيْكَ بِالْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الصَّوَابُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ مِنَ الْكُتَّابِ ذَرٌّ، فَقِيلَ أَبِي.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم ﷺ کے آگے لا کر رکھا۔ پھر اس نے کہا : میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ ، اور آپ نے اعرابی (دیہاتی) سے فرمایا : تم بھی کھاؤ، اس نے کہا : میں روزے سے ہوں، آپ نے پوچھا : کیسا روزے ؟ اس نے کہا : ہر مہینے میں تین دن کا روزے، آپ نے فرمایا : اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو لازم پکڑو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : صحیح عن ابی ذر ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ ذر کاتبوں سے چھوٹ گیا۔ اس طرح وہ ابی بن کعب ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٨ (ضعیف) (ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2427