أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ جَرِيرٌ: أَتَى النَّبِيَّ (ﷺ) نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! يَأْتِينَا نَاسٌ مِنْ مُصَدِّقِيكَ يَظْلِمُونَ قَالَ: أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ، قَالُوا: وَإِنْ ظَلَمَ، قَالَ: أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ، ثُمَّ قَالُوا: وَإِنْ ظَلَمَ، قَالَ: أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ، قَالَ جَرِيرٌ: فَمَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) إِلَّا وَهُوَ رَاضٍ.
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ دیہات کے لوگ آئے، اور انہوں آپ سے عرض کیا : آپ کے بھیجے ہوئے کچھ محصل زکاۃ ہمارے پاس آتے ہیں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا : اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی و مطمئن کرو ، انہوں نے عرض کیا : اگرچہ وہ ظلم کریں۔ آپ نے فرمایا : اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو ، انہوں نے پھر عرض کیا : اگرچہ وہ ظلم کریں ؟ آپ نے فرمایا : اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو ۔ جریر (رض) کہتے ہیں : جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی اسی وقت سے کوئی محصل زکاۃ میرے پاس سے راضی ہوئے بغیر نہیں گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ٧ (٩٨٩) ، سنن ابی داود/الزکاة ٦ (٥٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٢١٨) ، مسند احمد (٤/٣٦٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2460