أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ). ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنوئیں میں گر کر کوئی مرجائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، کان میں کوئی دب کر مرجائے تو وہ بھی رائیگاں ہے ١ ؎ اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ١١ (١٧١٠) ، سنن ابی داود/الخراج ٤٠ (٣٠٨٥) ، سنن الترمذی/الأحکام ٣٧ (١٣٧٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٧ (٢٦٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٢٨، ١٣٣١٠) ، موطا امام مالک/الزکاة ٤ (٩) ، العقول ١٨ (١٢) ، مسند احمد ٢/٢٢٨، ٢٢٩، ٢٥٤، ٢٧٤، ٢٨٥، ٣١٩، ٣٨٢، ٣٨٦، ٤٠٦، ٤١١، ٤١٤، ٤٥٤، ٤٥٦، ٤٦٧، ٤٧٥، ٤٨٢، ٤٩٢، ٤٩٥، ٤٩٩، ٥٠١، ٥٠٧، سنن الدارمی/الزکاة ٣٠ (١٧١٠) وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الزکاة ٦٦ (١٤٩٩) ، المساقاة ٣ (٢٣٥٥) ، الدیات ٢٨ (٦٩١٢) ، ٢٩ (٦٩١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ان چیزوں کے مالکوں سے دیت نہیں لی جائے گی۔ ٢ ؎: اور باقی چار حصے پانے والے کے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2495