أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): تَصَدَّقُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: أَنْتَ أَبْصَرُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صدقہ دو ، ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ نے فرمایا : اسے اپنی ذات پر صدقہ کرو ١ ؎ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنی بیوی پر صدقہ کرو ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا : اسے اپنے بیٹے پر صدقہ کرو ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنے خادم پر صدقہ کر دو ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا : آپ بہتر سمجھنے والے ہیں (جیسی ضرورت سمجھو ویسا کرو ) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الزکاة ٤٥ (١٦٩١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٤١) ، مسند احمد (٢/ ٢٥١، ٤٧١) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی خود اپنی ضروریات میں صدقہ کرو۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2535