أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ خُمُوشًا أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَمَاذَا يُغْنِيهِ أَوْ مَاذَا أَغْنَاهُ ؟ قَالَ: خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ، قَالَ يَحْيَى، قَالَ: سُفْيَانُ، وَسَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے مانگنے سے بےنیاز کرتی ہو، تو وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر خراشیں لے کر آئے گا ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کتنا مال ہو تو اسے غنی (مالدار) سمجھا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : پچاس درہم، یا اس کی قیمت کا سونا ہو ۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں : سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے زبید سے بھی سنا ہے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید کے واسطہ سے (یہ حدیث) بیان کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الزکاة ٢٣ (١٦٢٦) ، سنن الترمذی/الزکاة ٢٢ (٦٥١) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٦ (١٨٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٨٧) مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١) ، سنن الدارمی/الزکاة ١٥ (١٦٨٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2592