أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ مَاسَحَهُ وَدَعَا لَهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً فَحِدْتُ عَنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُكَ فَحِدْتَ عَنِّي، فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ.
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس (کے جسم) پر ہاتھ پھیرتے، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے، ایک دن صبح کے وقت آپ ﷺ کو دیکھ کر میں کترا گیا، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے ؟ میں نے عرض کیا : میں جنبی تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف : ٣٣٩٢) ، مسند احمد ٥/٣٨٤، ٤٠٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جنبی ہونے سے اس کا جسم اس طرح نجس نہیں ہوتا کہ کوئی اسے ہاتھ سے چھو لے تو ہاتھ نجس ہوجائے، اس کی نجاست حکمی ہوتی ہے عینی نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 267