أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَلَى الْيَمَنِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ عَلِيٌّ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): كَيْفَ صَنَعْتَ ؟قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِكَ، قَالَ: فَإِنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ، قَالَ: وَقَالَ (ﷺ) لِأَصْحَابِهِ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتُمْ، وَلَكِنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب (رض) کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کا حاکم بنایا، پھر جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، علی (رض) نے کہا : تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے مجھ سے پوچھا : تم نے کیسے کیا ہے ؟ یعنی کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے، میں نے کہا : میں نے آپ کا تلبیہ پکارا ہے (یعنی آپ کے احرام کے مطابق احرام باندھا ہے) ، آپ نے فرمایا : میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں، اور میں نے قران کیا ہے ، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اگر مجھے پہلے وہ باتیں معلوم ہوئی ہوتیں جواب معلوم ہوئی ہیں تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے تم نے کیا ہے ١ ؎ لیکن میں ہدی ساتھ لایا ہوں، اور میں نے حج قران کا احرام باندھ رکھا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٧٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٢٦) ویأتی عند المؤلف برقم ٢٧٤٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی میں بھی احرام کھول کر حلال ہوجاتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2725