أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ النَّبِيُّ (ﷺ) عَلَى الْيَمَنِ فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِي، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ عَلِيٌّ: وَجَدْتُ فَاطِمَةَ قَدْ نَضَحَتْ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ، قَالَ: فَتَخَطَّيْتُهُ، فَقَالَتْ لِي: مَا لَكَ ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا، قَالَ: قُلْتُ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) فَقَالَ لِي: كَيْفَ صَنَعْتَ ؟قُلْتُ: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی (رض) کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کا گورنر (امیر) بنایا تو مجھے ان کے ساتھ کئی اوقیے ملے جب علی (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، میں نے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے گھر میں خوشبو پھیلا رکھی ہے، تو میں گھر سے نکل کر باہر آگیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے احرام کھول دیا، میں نے کہا : میں نے تو نبی اکرم ﷺ کے تلبیہ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے پوچھا : تو تم نے کیسے کیا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے آپ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، آپ نے فرمایا : میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٧٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2745