أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا، ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا، فَيَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، وَمَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ.
ام المؤمنین (عائشہ رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے ان ہاروں (قلادوں) کو اس رنگین اون سے بٹا جو ہمارے پاس تھے پھر ہم میں موجود رہ کر آپ نے صبح کی اور وہ سب کام کرتے رہے جو غیر محرم اپنی بیوی سے کرتا ہے اور جو عام آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١١٢ (١٧٠٥) ، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١) ، سنن الدارمی/المناسک ١٧ (١٧٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٦٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2780