أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ، فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کرلے جا رہا ہے آپ نے فرمایا : اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ نے (پھر) فرمایا : سوار ہو جاؤ، تمہارا، برا ہو، راوی کو شک ہے ويلك تمہارا برا ہو ١ ؎ کا کلمہ آپ نے دوسری بار میں کہا یا تیسری بار میں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٠٣ (١٦٨٩) ، ١١٢ (١٧٠٦) ، الوصایا ١٢ (٢٧٥٥) ، الأدب ٩٥ (٦١٦٠) ، صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٢) ، سنن ابی داود/الحج ١٨ (١٧٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٨١) ، موطا امام مالک/الحج ٤٥ (١٣٩) ، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٣١٢، ٤٦٤، ٤٧٤، ٤٨١، ٤٨٧، ٥٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے یہاں بدعا مقصود نہیں بلکہ زجر و توبیخ مراد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2799