أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُويَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْأَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ (ﷺ) مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، وَابْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَقُولُ: خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ضَرَبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ، قَالَ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، تَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): خَلِّ عَنْهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَلَامُهُ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب عمرہ قضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ آپ کے آگے تھے اور کہہ رہے تھے : خلوا بني الکفار عن سبيله اليوم نضربکم على تأويله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله اے کافروں کی اولاد ! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ، ١ ؎ ان کے اشارے پر آج ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو تمہارے سروں کو گردنوں سے اڑا دے گی اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی ، عمر (رض) نے کہا : ابن رواحہ (رض) ! تم اللہ کے حرم میں اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایسے شعر پڑھتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چھوڑو انہیں (پڑھنے دو ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان کے یہ اشعار کفار پر تیر لگنے سے بھی زیادہ سخت ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٧٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: باب پر استدلال ابن رواحہ کے اسی قول خلو بنی الکفار سے ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2893