أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ الْبَاهِلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ أَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ؟ قَالَ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا إِلَّا الْيَهُودَ، حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ.
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ (رض) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بیت اللہ کو دیکھے، تو کیا وہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ؟ انہوں نے کہا : میں نہیں سمجھتا کہ یہود کے سوا کوئی ایسا کرتا ہے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا، تو ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٤٦ (١٨٧٠) ، سنن الترمذی/الحج ٣٢ (٨٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٣١١٦) ، (لکن عندہ بالإثبات أی بلفظ ” فکنانفعلہ “ وأثبت صاحب تحفة الأحوذی ” أفکنا نفعلہ ؟ ۔۔ “ ) (ضعیف) (اس کے راوی ” مہاجر بن عکرمہ مکی “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2895